نئی دہلی، 9 جون (ایس او نیوز/ آئی این ایس انڈیا) دہلی کی ایک عدالت نے قومی تفتیشی ایجنسی (این آئی اے) کی تحویل رہنے کے دوران کورونا مثبت ملی کشمیری خاتون کو منگل کو عبوری ضمانت دینے سے انکار کردیا۔
حنا بشیر بیگ نامی اس خاتون کو نظرثانی شدہ شہریت ایکٹ (سی اے اے) کے خلاف احتجاج کے دوران ملک میں دہشت گرد انہ حملے کی منصوبہ بندی کرنے پر گرفتار کیا گیا ہے۔ بیگ اس وقت دہلی کے لوک نائک جے پرکاش اسپتال میں زیر علاج ہیں۔ اس کو اس سال کے شروع میں شوہر جہاں زیب سمیع اور دیگر ملزم عبدالباسط کے ساتھ گرفتار کیا گیا تھا۔
جج نے یہ کہتے ہوئے ضمانت دینے سے انکار کردیا کہ ملزمہ کے خلاف سنگین مقدمہ چل رہا ہے، تاہم اسے مناسب طبی امداد دی جائے گی۔ جج نے ملزمہ کی جانب سے پیش ہوئے ایڈووکیٹ ایم ایس خان سے کہا کہ کسی بھی نجی اسپتال کی تجویز پیش کی جائے جہاں بیگ کو منتقل کیا جاسکے۔ عدالت نے یہ ہدایت وکیل کے اس دعوے کے بعد دی کہ سرکاری اسپتال میں مناسب علاج نہیں ہورہاہے۔
این آئی اے کے مطابق ان تینوں ملزمان کو مبینہ طور پراسلامک اسٹیٹ کے نظریہ کو فروغ دینے اور ترمیم شدہ شہریت ایکٹ (سی اے اے) کے خلاف مظاہرے کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ عدالت کی ہدایت پر ملزمان کی کووڈ 19 جانچ 6 جون کو ہوئی، جب کہ ان کی 10 روزہ این آئی اے کی تحویل 7 جون کو ختم ہوگئی۔
این آئی اے نے عدالت کو بتایاکہ ملزمان جہاں زیب سمیع اور محمد عبدالباسط کی کووڈ 19 تحقیقاتی رپورٹ منفی آئی ہے لیکن حنا بشیر بیگ کی (کووڈ 19 تحقیقات) کی رپورٹ مثبت آئی ہے۔اس کے بعد عدالت نے این آئی اے کو فوری طور پر خاتون کو اسپتال میں داخل کرنے کی ہدایت دی۔
بیگ نے اپنی ضمانت کی درخواست میں کہاکہ دہلی کووڈ 19 کے بڑھتے ہوئے معاملات سے نمٹنے کے لئے جدوجہد کر رہی ہے۔ یہ معاملات 27 ہزار کو عبور کرچکے ہیں اور سرکاری اسپتالوں میں مناسب علاج نہ ہونے کی وجہ سے دہلی حکومت کووڈ 19 کے علاج کے لئے 56 نجی اسپتالوں کی فہرست جاری کرنے پر مجبور ہوئی ہے۔